ایمان اور دعوت کے سفر میں رفاقت کا انتخاب محض ایک سماجی معاملہ نہیں، بلکہ انسان کی فکری و روحانی تشکیل کا بنیادی محرک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے اپنا رفیق بنا رہا ہے۔ ایک سچے داعی اور مومن کے لیے تمام تعلقات کی بنیاد مشن بن جاتی ہے۔ اصحابِ رسول کی پاکیزہ تاریخ شاہد ہے کہ ان کے باہمی روابط محض رسمی قرابت داری پر مبنی نہیں تھے، بلکہ وہ ہم فکر اور یکسو ہو کر ایک لائحۂ عمل پر مجتمع تھے۔ حقیقی مومن وہ ہیں جو باہم ایک مضبوط عمارت کی مانند ایک دوسرے کی فکری و روحانی پشت پناہی کرتے ہیں، اور جن کے ملنے اور جدا ہونے کی واحد بنیاد اللہ کا مشن (spirit of mission) ہوتا ہے۔ جہاں یہ سنجیدگی مفقود ہو جائے، وہاں تعلقات محض بے معنی میل جول اور وقت کے ضیاع میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جب کہ سچی رفاقت وہی ہے جو انسان کی معرفت (God-realization) اور روحانی ارتقا میں مسلسل اضافے کا سبب بنے۔
اجتماعی زندگی اور باہمی نشست و برخاست کے باب میں بھی یہی بامقصد رویہ کارفرما ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام راستوں اور چوراہوں پر بے مقصد بیٹھنے کی ممانعت فرمائی، اور ناگزیر ضرورت کے تحت اس کی اجازت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی شرط سے مشروط کیا۔ اس نبوی ہدایت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان کا کوئی بھی اجتماع لغو گفتگو اور وقت گزاری (idle talk) کا ذریعہ نہ بنے، بلکہ وہ ایک بامقصد اور نتیجہ خیز نشست (productive gathering) ہو۔ کسی مجلس کے بامعنی بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں افراد کے مابین خیر خواہی، باہمی اصلاح اور احتساب کا شعور زندہ ہو۔ اگر انسانوں کے میل جول میں تذکیر، فکری تبادلہ اور اخلاقی تعمیر کا عنصر موجود نہ ہو تو ایسا اجتماع انسانی شخصیت کی تعمیر کے بجائے اس کی فکری صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتا ہے۔
کسی بھی دعوتی اور فکری مجلس کی کامیابی کا دارومدار سننے کے سلیقے (art of listening) اور متانت پر ہے۔ انسانوں کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ مناظرانہ ذہنیت کے بجائے معروضی انداز میں بات کو سمجھنے کے عادی بنیں۔ داعیِ حق کو ہر مقام پر اعراض کی حکمت (art of avoidance) کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ جب مخاطب ذہنی طور پر کسی سنجیدہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو یا جذباتی تعصب (emotional prejudice) کا شکار ہو کر الجھنے کی کوشش کرے، تو وہاں اپنی بات منوانے پر اڑ جانا یا بحث کو طول دینا حکمتِ دعوت کے خلاف ہے۔ ایسے نازک مواقع پر فوری طور پر نزاعی رخ سے پیچھے ہٹ جانا اور خاموشی اختیار کر لینا ہی دراصل فکری بلوغت (intellectual maturity) کی علامت ہے۔ جو لوگ اس تدبیر سے ناواقف ہوتے ہیں، وہ غیر ضروری کشمکش میں اپنی دعوتی توانائیاں ضائع کر بیٹھتے ہیں۔
قرآنِ مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا منقول ہے: ﴿رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ﴾۔ اس آیت میں 'حکم' سے مراد فہمِ صحیح (sound judgment) ہے، یعنی حقائق کو ان کی اصل معروضی صورت (objective reality) میں دیکھنا اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا۔ نبوت اور کتاب کے ساتھ حکمت اور فہمِ دین کا الگ سے ذکر اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی سچے مشن سے وابستہ ہو جانا ہی کافی نہیں، بلکہ اس مشن کو درست طور پر بروئے کار لانے کے لیے اجتہادی بصیرت (creative/ijtihadi thinking) ناگزیر ہے۔ حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی گہری سمجھ اور تفقہ عطا کر دیتا ہے۔ اگر انسان کے پاس مخلصانہ جذبہ تو ہو مگر حالات کے صحیح ادراک اور درست فیصلے کی بصیرت نہ ہو، تو وہ حق پر ہونے کے باوجود عملی میدان میں سنگین غلطیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
دعوتی و ملی زندگی میں سب سے نازک مرحلہ اجتہادی نوعیت کے فیصلوں کا ہوتا ہے۔ اگر مخلص ترین انسان سے بھی حالات کا غلط اندازہ لگانے میں کوئی اجتہادی خطا (judgmental error) سرزد ہو جائے، تو اس پر اصرار کرنے یا اس کی تاویلیں گھڑنے (justification) کے بجائے فوری طور پر اعترافِ حقیقت (acknowledgment of reality) کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے میں اللہ تعالیٰ کا جو شدید انتباہ سامنے آیا، وہ اسی حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ اہلِ حق کے لیے اپنے فیصلوں پر تنقیدی نظر رکھنا کتنا ضروری ہے۔ جب تک انسان اپنی کوتاہی کا برملاملا اور غیر مشروط اعتراف نہ کرے، وہ خدائی تائید کا مستحق نہیں بن سکتا۔ پس، سچے اہلِ ایمان کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کی مدافعت کرنے والے تبریر پسند (apologetic) نہیں بنتے، بلکہ ہر حال میں فہمِ صحیح اور اعترافِ حق کو اپنا شعار بناتے ہیں۔
(a) After the ‘Ad, the other community which gained ascendance was the Thamud (7:74). This community inhabited the area between Khaybar and Tabuk known as Al-Hijr. This community too was blessed with great prosperity and enjoyed dominance over others. But, the members of this community likewise devoted their full attention to the attainment of material prosperity. The art of constructing large houses by carving them out of the hills was perhaps started by this community and an improved form of this is found in the Ajanta and Ellora caves in India. Unfortunately, all those who obtain worldly benefits harbour the misunderstanding that they are entitled to them and may use them as they like. But this is the greatest mistake. The fact is that these worldly things are there only for as long as the period of trial lasts. After that, everything will be snatched from them so that nothing remains. One who exceeds the limit is one who, when he acquires wealth, develops the mentality of conceit instead of gratitude to God. When power falls to his lot, he indulges in vanity instead of being modest. If he is given high office, he uses it to glorify his name and not to serve others. Such misuse of available opportunities creates disturbance in society. The leaders of the Thamud community indulged in such type of excesses and the commoners followed them. Their prophet warned (the common people) that those they considered great were themselves misguided, and asked how they could then guide others.